پہلی فصل
مقدماتی مباحث
پہلا سبق
قرآن کریم کی تلاوت کے آداب
اهداف درس 1
آشنایی با الفبای عربی و نقش آن در قرائت کلمات قرآن و آموختن شیوهی خواندن صحیح حروف مقطعهی قرآن کریم ��
قرآن کریم کی تلاوت کے آداب
قرآن سب سے زیادہ محبوب کلام ہے جو انسانوں کی سعادت کے لئے نازل ہوا ہے، اس عظیم المرتبت کتاب کی تلاوت کے کچھ آداب ہیں جو قرآنی آیات اور اہلبیت(ع) کی روایات میں ذکر ہوئے ہیں اور قاری کو چاہیے کہ تلاوت کے دوران ان آداب کی رعایت کرے؛ ذیل میں کچھ مہم آداب ذکر ہوئے ہیں۔
اهداف درس 1
آشنایی با الفبای عربی و نقش آن در قرائت کلمات قرآن و آموختن شیوهی خواندن صحیح حروف مقطعهی قرآن کریم ��
1. طهارت اور پاکیزگی
قرآن کریم انسانوں کے تزکیہ اور ان کے جسم و روح کی طہارت و پاکیزگی کے لیے نازل ہوا ہے، لہذا خداوند عالم کا حکم ہے کہ اس کلام کی تلاوت کے وقت پاک و طاہر رہیں۔
لَا یَمَسُّہٓ الاّ المُطھّرُونَ
اس (قرآن) کو صرف پاک لوگ چھوئیں۔
اهداف درس 1
آشنایی با الفبای عربی و نقش آن در قرائت کلمات قرآن و آموختن شیوهی خواندن صحیح حروف مقطعهی قرآن کریم ��
طهارت
ظاهری
با وضورہنا
باطنی
معنوی پاکیزگی اور گناہوں سے دور رہنا
اهداف درس 1
آشنایی با الفبای عربی و نقش آن در قرائت کلمات قرآن و آموختن شیوهی خواندن صحیح حروف مقطعهی قرآن کریم ��
2. اخلاص
پیامبراکرم ؐ
«سب سے بہترین عبادت قرآن کریم کی تلاوت ہے».
امام علی علیہ السلام
«وہی عبادت قبول ہوگی جس میں اخلاص ہوگا».
قرآن کریم: صرف متقین کے اعمال قبول کیے جائینگے
اهداف درس 1
آشنایی با الفبای عربی و نقش آن در قرائت کلمات قرآن و آموختن شیوهی خواندن صحیح حروف مقطعهی قرآن کریم ��
2. اخلاص
قرآن کی تلاوت کرنے والوں کو اس بات کی طرف توجہ رکھنا چاہیے کہ وہ صرف خدا کی خوشنودی کے لیے قرآن کی تلاوت کریں، اسی صورت میں انہیں اجر و ثواب ملے گا، انہیں سعادت نصیب ہوگی اور تلاوت ان کی بہترین عبادت شمار ہوگی، لیکن اگر ریاکاری اور دنیوی اہداف حاصل کرنے کے لیے تلاوت کریں گے تو نہ صرف انہیں ثواب نہیں ملے گا بلکہ قرآن ان پر لعنت کرے گا اور وہ خدا کی رحمت سے بھی دور رہیں گے۔ پیغمبر اسلام اس سلسلہ میں فرماتے ہیں کہ جو شخص دنیا اور مال دنیا کے لیے قرآن پڑھے گا خداوندعالم جنّت کو اس کے لیے حرام قرار دے گا۔
اهداف درس 1
آشنایی با الفبای عربی و نقش آن در قرائت کلمات قرآن و آموختن شیوهی خواندن صحیح حروف مقطعهی قرآن کریم ��
3. استعاذه
استعاذہ یعنی خدا کی پناہ حاصل کرنا۔ مستحب ہے کہ قاری تلاوت سے قبل تمام بُرائیوں اور شیطانی وسوسوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے (أعُوذُ بِااللہِ منَ الشیطان الرجیم) کی تلاوت کرے، اور اس عبارت کو پڑھتے وقت یہ تصور کرے کہ میں تمام بُرائیوں اور شیطانی وسوسوں سے خدا کی پناہ حاصل کرنا چاہتا ہوں اور خدا سے ہی مدد طلب کرتا ہوں۔
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: گناہوں کے دروازوں کو استعاذہ کے ذریعہ بند کرو۔
اهداف درس 1
آشنایی با الفبای عربی و نقش آن در قرائت کلمات قرآن و آموختن شیوهی خواندن صحیح حروف مقطعهی قرآن کریم ��
4. خدا کے نام سے تلاوت کا آغاز
تلاوتِ قرآن کے آداب میں سے ایک ادب یہ ہے کہ خدا کے نام سے تلاوت کا آغاز کیا جائے، یعنی قرآن کی آیت (بسم اللہ الرحمن الرحیم) سےتلاوت کا آغاز کیا جائے، اسے اصطلاح میں (بَسمَلہ) کہا جاتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اس خدا کے نام سے آغاز کرتا ہوں جو مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: خدا کی اطاعت اور بندگی کا آغاز (بسم اللہ الرحمن الرحیم) کے ذریعہ کرو۔
اهداف درس 1
آشنایی با الفبای عربی و نقش آن در قرائت کلمات قرآن و آموختن شیوهی خواندن صحیح حروف مقطعهی قرآن کریم ��
5. ترتیل کی صورت میں قرآن کی تلاوت کرنا
ترتیل کا مطلب
خداوندعالم قرآن کریم میں رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ سے فرماتا ہے:
(وَرَتِّلِ القُرآنَ ترتیلا) قرآن کو ترتیل سے پڑھیں
ترتیل کا مطلب یہ ہے کہ قرآنی آیات کی اس طرح سے تلاوت کی جائے کہ تمام الفاظ، حروف اور کلمات واضح اور آشکار طریقہ سے تلاوت ہوں اور بغیر عجلت اور جلدبازی کے خوبصورت انداز میں تلاوت کی جائے تاکہ سننے والے کو قرآنی آیات کے معانی سمجھنے میں آسانی ہو۔